ان تازہ خداؤں میں وطن سب سے بڑا ہے...... علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے یہ اشعار وطن پرستی کے خلاف ہیں۔ حب الوطنی کے خلاف نہیں۔ دراصل ان کی زمانی اہمیت ہے۔ یہ اس دور کی نظم ہے جب دو قومی نظریہ کے تحت قیامِ پاکستان کے خلاف کانگریس اور اس سے متعلق بعض مسلم علماء کی طرف وطن پرستی کا نعرہ استعمال کیا جارہا تھا علامہ حسین احمد کہتے تھے کہ ہندوستان ہمارا وطن ہے اور اس میں بسنے والے سب ایک قوم ہیں ہم اس وطن اور اس قوم کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ علامہ اس کے خلاف تھے اور ان مطالبہ تھا کہ قوم مذہب سے ہے وطن سے نہیں۔ کبھی انہوں نے کہا ملت مذہب سے ہے۔ مولانا حسین احمد مدنی اس نظریہ کے سخت خلاف تھے اور وطن پرستی کا نعرہ لگاتے تھے۔ اسی بات پر علامہ نے فارسی میں بھی لکھا تھا کہ
عجم ہنوز نہ داند رموز دیں ورنہ
ز دیوبند حسین احمد این چہ بوالعجبی است
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقامِ محمد عربی است
ترجمہ: عجم ابھی تک دین کی رمز سے آشنا نہیں ہوا
دیوبند سے حسین احمد نے کیا عجیب حرکت کی ہے
وہ منبر پر بیٹھ کر کہتا ہے کہ ملت وطن سے ہے
وہ مقام محمد عربی سے کتنا بے خبر ہے
علامہ کا یہ قطعہ جب شائع ہوا تو علمائے دیوبند نے مولانا حسین احمد کی حمایت میں وطن پرستی پر مبنی اشعار کا اور نظموں کا انبار لگا دیا۔ علامہ دراصل بتانا یہی چاہتے تھے کہ یورپ میں مقبول سیاسی نظریہ وطن پرستی میں علاقائی ثقافتوں اور رسموں پر فخر کر کے اس کو بنائے قوم مانا جاتا ہے چاہے ان میں کئی ظالمانہ ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کے مقابل مسلمانوں کا نظریہ قومیت وحی الہٰی کو سپریم لاء تسلیم کرنے میں ہے۔ جو بہترین ہدایت ہے۔ وطن سے محبت کرنے اور اس کا یوم آزادی منانے کے خلاف علامہ اقبال نہیں تھے۔ ان کی ایک نظم ہندوستان سے ان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جس کا مطلع یوں ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا